Advertisement
Translate
Thursday, March 31, 2022
ہیروں کی پراسرار کان جو اڑتے جہازوں کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے
مشرقی روس کے سائبیرین علاقے میں کان کنوں کا ایک شہر ہے جو دیگر علاقوں سے کافی مختلف ہے۔
آرکٹک سرکل سے تقریباً 280 میل کے فاصلے پر میرنی نامی قصبہ ایک دیوہیکل کھلے گڑھے میں واقع ہیرے کی کان کے ساتھ قائم ہے۔ یہ گڑھا 3900 فٹ قطر اور 1,722 فٹ سے زیادہ گہرا ہے۔
یہ دنیا کے سب سے بڑے کھدائی والے گڑھوں میں سے ایک ہے جس سے ہیروں کی پراسرار مقدار نکلتی ہے، کہتے ہیں کہ اس گڑھے میں اپنے اوپر سے اڑتی کسی بھی چیز کو کھینچنے کی صلاحیت موجود ہے۔
Mirny: A Giant Diamond Mine that Sucks Helicopters In
میرنی کو مونو سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ آبادی کی اکثریت ایک ہی کمپنی الروسا کے لیے کام کرتی ہے، یہ حجم کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ہیروں کی کان ہے۔
محل وقوع کے لحاظ سے یہ قصبہ انتہائی حیرت انگیز جگہ پر قائم ہے جو سال کے کم از کم سات ماہ تک پرما فراسٹ کی ایک موٹی تہہ میں ڈھکا رہتا ہے۔
Puzzling Mystery of Mir Mine Hole - Charismatic Planet
جب گرم مہینے آتے ہیں تو پرما فراسٹ کیچڑ میں بدل جاتا ہے اور گھروں کو ستونوں پر کھڑا کر کے سیلاب سے بچایا جاتا ہے۔
اس قصبے کی تاریخ 1955 میں اس وقت پر جا کر شروع ہوتی ہے جب سوویت یونین دوسری جنگ عظیم کے بعد خود کو دوبارہ تعمیر کر رہا تھا۔
اس دور میں ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم ہیروں کی تلاش کی امید میں پورے ملک میں سرگرداں تھی اور بالآخر تلچھٹ کو چھانتے ہوئے اس علاقے میں ہیروں کے نشانات پائے گئے۔
Russian diamond giant ALROSA has assured smooth supply, says GJEPC | Business Standard News
1957 تک، سٹالن نے میرنی ہیرے کی کان تعمیر کرنے کا حکم دیا لیکن ناہموار علاقے اور موسم نے چیزوں کو مشکل بنا دیا۔
موسم سرما کے دوران میرنی کا موسم صفر سے 40 ڈگری نیچے ہوتا ہے۔ یہاں اتنی سردی ہوتی ہے کہ گاڑی کے ٹائر چٹخ جاتے ہیں اور تیل جم جاتا ہے۔
اس زمانے میں ماہرین کو زمین کو پگھلانے کے لیے جیٹ انجن اور پرما فراسٹ سے گزرنے کے لیے ڈائنامائٹ استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ کان کی تعمیر کی جا سکے۔
اتنی محنت کا پھل 1960 میں ملنا شروع ہوا جب کان تیار ہو کر چلنے لگی اور دولت کا ایک ذخیرہ اگلنے لگی۔
کان سے پہلے عشرے کے دوران ہر سال 10,000,000 قیراط ہیرے نکالے گئے ، جن میں سے 20 فیصد جواہرات کے معیار کے تھے۔
اس سے بھی بڑی دریافت اس وقت ہوئی جب کان سے 342.57 کیرٹ کا فینسی لیمن یلو ہیرا دریافت ہوا، جو ملک میں اب تک کا سب سے بڑا ہیرا ہے۔
تاہم، کان کی کامیابی اور اس سے نکلتے ہیروں کی تعداد سے لوگوں کو شبہ ہونے لگا۔
ہیروں کے دنیا کے سب سے بڑے ڈسٹری بیوٹر ڈی بیئرز اس کی پیداواری شرح کی چھان بین کرنا چاہتے تھے، کیونکہ اتنی کثیر تعداد میں اعلیٰ کوالٹی کے ہیروں کی پیداوار سننے میں ہی حقیقت سے ماورا لگتی تھی۔
انہوں نے کان کے دورے کی درخواست کی لیکن اسے منظور ہونے میں چھ سال لگے اور جب ڈی بیئرز کے نمائندے میرنی پہنچے تو انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
De Beers Group introduces new auction portal
جب انہیں بالآخر ایک بار کان تک رسائی دی گئی، تو انہیں صرف 20 منٹ کے دورے کی اجازت ملی، جو کسی بھی طرح ان کے تفتیشی عمل کے لیے کافی وقت نہیں تھا۔
یہ کان سیاحوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اربوں ڈالر مالیت کی پیداوار فراہم کی تھی، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔
2004 میں یہ کان اچانک اور حیرت انگیز طور پر بند ہو گئی، حکام کا کہنا تھا کہ کان میں پانی بھر گیا ہے جس کی وجہ سے وہ مزید کام نہیں کر سکتے۔
سازشی نظریہ سازوں اور ہیروں کے سوداگروں نے اگرچہ اس پر یقین نہیں کیا۔ تاہم، ان کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے دیگر نظریات بھی گردش کرنے لگے۔
برسوں قبل، اس دیوہیکل سوراخ کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے اوپر کی فضائی حدود کو بھی محدود کر دیا گیا تھا، کیونکہ کان کی گہرائی کا مطلب تھا کہ چھوٹے طیارے اور ہیلی کاپٹر اس کے اندر کھینچے جاسکتے تھے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سطح سے ٹھنڈی ہوا کان کی آنتوں سے آنے والی گرم ہوا سے ملتی ہے تو ایک ایسا طاقتور بھنور بناتی ہے جو چیزوں کو اپنی گہرائی میں کھینچ لیتی ہے۔
اپنے ابتدائی دور میں کان نے 13 بلین ڈالر (2.3 بلین پاؤنڈ) مالیت کے ہیرے پیدا کیے۔
کان کو 2009 میں دوبارہ شروع کیا گیا اور امید تھی کہ یہ مزید 50 سال تک کام کرے گی۔
تاہم، 2017 میں ایک بار پھر اس میں پانی بھرنے سے 140 کان کن پھنس گئے، جن میں سے 8 کے علاوہ تمام کو بچا لیا گیا۔ یہ حادثہ بھی سازش کی نظر ہوگیا۔
میرنی ہیرے کی کان ایک پراسرار بھنور بنی ہوئی ہے، ایک بظاہر بے پایاں گڑھا جو کبھی دنیا کے نصف سے زیادہ ہیرے پیدا کرتا تھا۔
منقول
پوسٹ کو شیئر کرنا مت بھولیے گا
About Sheikh Ahtisham
we are dedicated to providing you the very best Information. Keep watching this blog for more latest information share your views and share it with your friends and family members. Founded in 05 February by sheikh ahtisham has come a long way from its beginnings in Pakistan. We hope you will enjoy our multi information as much as we enjoy offering them to you. If you have any questions or comments, please contact us.
Cave
Tags:
Cave
Subscribe to:
Post Comments (Atom)



No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.