![]() |
| Reality and Mysteries of Ghost |
Advertisement
Translate
Friday, February 25, 2022
Home
/
Ghost
/
Jin
/
scientific research
/
اسلام میں جنات کا تصور اور جدید سائنسی تحقیق (The Concept of Jinn in Islam and Modern Scientific Research)"
اسلام میں جنات کا تصور اور جدید سائنسی تحقیق (The Concept of Jinn in Islam and Modern Scientific Research)"
جنات نظر کیوں نہیں آتے ؟ ایک سائینسی تجزیہ
جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟
لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔
اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ ایسے ہی اگر آپ ایک مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اور اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔ روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔
کائینات میں پائی جانی والی تمام چیزوں کو اگر ایک میٹر
کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان
الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔
ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ۔ ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔
ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب وہ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔ اور دوسری چیز fovea جو انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ آسانی سے ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔
البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 30 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر
کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔
سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔
جو چیز 218 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔
اگر آپ پہلی ڈائیمینش میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔
اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔
تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری حقیقت یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔
اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔
پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔
چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔
ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا ۔
آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔
نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔
اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔
اور فرقان قریشی کے طور پر میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔
بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔
ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔
الحمد لاللہ رب العالمین ، تمام تعریفیں اس اللہ کی ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ
پہلے کبھی محسوس نہ کیا
تھا
جنات کے بارے حیرت انگیز معلومات
جن بھی انسان کی طرح ہی اللہ کی ایک قسم کی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی ہے ، بنی آدم یعنی نوع انسانی کی طرح ذی عقل اور ارواح واجسام ( روح و جسم والا) والی ہے ، ان میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے یعنی انسانوں کی طرح ، ان کی بھی نسل بڑھتی اور پھولتی پھلتی ہے ، کھاتے پیتے ، جیتے مرتے ہیں ، مگر ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔ان کی عمریں ہزاروں سال ہوتی ہیں۔
جنات میں مسلمان بھی ہیں کافر بھی ، مگر ان کے کفار ، انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں ، ان کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی ، البتہ ان میں فاسقوں ، بدکاروں کی تعداد بہ نسبت انسان زائد ہے ، شریر جنوں کو شیطان کہتے ہیں ، ان سب کا سرغنہ ابلیس ہے۔جو کہ سب سے پہلے جن "مارج" کے پوتے کا بیٹاتھا۔ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو غرور میں آکر سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور حکم خداوندی کی نافرمانی کی تھی جس کی وجہ سے راندہ بارگاہ الہٰی ہوا ، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مردود کیا گیا ، قیامت تک کے لئے اسے مہلت دی گئی۔اور اسے اس قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں، بلکہ اس کی بلا شقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے ۔
ابلیس کی طرح اس کی ذریت بھی مردود ہے ، یہ سب شیاطین ہیں اور انسانوں کو بہکانا ان کا کام ہے ، طرح طرح کی ترکیبوں کے ذریعے نیک کام سے روکتے اور برے کاموں کی طرف ترغیب دلاتے ہیں ، خدا کے نیک بندے ان کے مکروہ اغواہ میں نہیں آتے ، بلکہ لاحول بھیج کر نیک کاموں میں مصروف رہتے ہیں ، لیکن جو ان کے بہکائے میں آجاتے ہیں وہ آخر کار گمراہ ہوجاتے ہیں ، اللہ تعالٰی اپنی پناہ میں رکھے اور ان کے مکروہ اغواہ سے بچائے آمین
فرشتوں کی طرح جنوں میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں ، حدیثوں سے ثابت ہے کہ ان میں کسی کسی کے پر بھی ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں ، اور بعض سانپوں ، اور کتوں کی شکل میں گشت لگاتے پھرتے ہیں اور بعض انسانوں کی طرح رہتے سہتے ہیں ، لیکن اکثر ان کی رہائش گاہ بیابان یا ویران مکان اور جنگل ، پہاڑ ہیں ۔
اسلام سے پہلے بھی عربوں میں جنوں کے تذکرے موجود تھے۔ اس زمانے میں سفر کرتے وقت جب رات آ جاتی تھی تو مسافر اپنے علاقے کے جنوں کے سردار کے سپرد کرکے سو جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق سے قبل دنیا میں جن آباد تھے ۔ جن کی آگ سے تخلیق ہوئی تھی اور انھوں نے دنیا میں فتنہ و فساد برپا کر رکھا تھا ۔ قرآن میں حضرت سلیمان کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان کی حکومت جنوں پر بھی تھی۔ حضرت سلیمان نے جو عبادت گاہیں ’’ہیکل‘‘ بنوائی تھیں۔ وہ جنوں نے ہی بنائی تھیں۔
صیحح حدیث میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک ہمزاد شیطن جن ہوتا ہے۔ ہمزاد جن ایک قسم کا شیطن ہے ، وہ شیطان کہ ہر وقت آدمی کے ساتھ رہتا ہے وہ مُطْلَقاً کافِر ملعونِ اَبَدی ہے سوا اُس کے جو حضورِ اقدس صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضِر تھا وہ بَرَکتِ صُحبتِ اقدس سے مسلمان ہو گیا ۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:لوگو!تم میں کوئی شخص نہیں کہ جس کے ساتھ ہمزاد جِنّ اور ہمزاد فرشتہ نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی اے اللہ تعالیٰ کے رسول!(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ارشادفرمایا کہ ہاں میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی کہ وہ(ہمزاد شیطان)مسلمان ہو گیا لہٰذا وہ مجھے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں کہتا۔(صحیح مسلم ص 1512 حدیث 2814)
اس حدیث کی شرح میں مرقاۃ اور اشعۃ اللمعات میں ہے کہ جب کوئی انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو ا س کے ساتھ ہی ابلیس کے ایک شیطان پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں ہمزاد عربی میں وسواس کہتے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ ابلیس کے ہر ہر آن سیکڑوں بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں،مطابق تعداد اولاد انسان جیسے مچھلی،ناگن سانپ بیک وقت ہزار ہا انڈے دیتی ہے۔طاغوتی جراثیم ہر آن بچے دیتے رہتے ہیں۔
مسلم شریف میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میرے پاس جنوں کا داعی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور ان پر قرآن پڑھا فرمایا کہ وہ ہمیں لے کر گیا اور اپنے آثار اور اپنی آگ کے آثار دکھائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زاد راہ ( کھانے ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھ آئے گی تو وہ گوشت ہوگی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے ۔
جس زمین پرہم زندگی گزار رہے ہیں اسی پر وہ بھی رہتے ہیں اور انکی رہائش اکثر خراب جگہوں اور گندگی والی جگہ ہوتی ہیں مثلا بیت الخلا ' گندگی پھینکنے اور پاخانہ کرنے کی جگہ وغیرہ تو اسی لئے نبی صلی للہ علیہ وسلم نے ان جگہوں میں داخل ہوتے وقت اسباب اپنانے کا کہا ہے۔ یعنی دعائیں اور اذکار۔
قبرستانوں اور ویران جگہوں پر بھی ان کا ڈیرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح گھروں کی چھتوں پر بھی یہ مخلوق رہتی ہے۔ اسی لئے شام کے وقت سورج غروب ہوتے وقت نبی اکرم ﷺ نے چھوٹے بچوں کوچھتوں پر چھوڑنے سے منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں تمام شیاطین سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین.
اپنی رائے کا اظہار بھی کیا کریں۔ ساتھ میں شیئر کرنا مت بھولیں۔ شکریہ
About Sheikh Ahtisham
we are dedicated to providing you the very best Information. Keep watching this blog for more latest information share your views and share it with your friends and family members. Founded in 05 February by sheikh ahtisham has come a long way from its beginnings in Pakistan. We hope you will enjoy our multi information as much as we enjoy offering them to you. If you have any questions or comments, please contact us.
scientific research
Tags:
Ghost,
Jin,
scientific research
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.