Urdu Digital Knowledge,Free Urdu Knowledge Resources,Complete Urdu Digital Education, Urdu mein digital knowledge kaise hasil karen,Free Urdu online courses aur ebooks,Urdu digital library books pdf,Urdu knowledge website Pakistan,Urdu language learning online free,Urdu literature aur shayari digital collection,Online Urdu education platform,Urdu general knowledge questions answers,Urdu mein science, Latest Knowledge, Knowledge, Multi Knowledge, NASA Space Mission, Online Earning Tips and Tricks

Subscribe Us

Breaking

Advertisement

Translate

Wednesday, April 8, 2026

NASA Artemis Mission II 2026




NASA  Artemis II Squad 










NASA Artemis II Mission - 2026


یہ تصویر آرٹیمس ۔٢ مشن کے اورین کیپسول سے لی گٸ ھے جس میں تین مرد اور ایک خاتون خلانورد چاند کے مدار میں
 رہتے ہوۓ تجزیاتی مہم سر کرنے گۓ ہیں۔ 
تصویر میں جو ننھا سا چاند نما نقطہ ہے ، اسے زمین کہتے ہیں۔ زمین کی یہ تصویر اورین کیپسول نے تین لاکھ پچاس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے لی ھے۔ اگر دگنے فاصلے سے لینے کی کوشش کی جاتی تو بے سود کہلاتی کیونکہ زمین موہوم و معدوم ہو جاتی۔ ہم جس گلیکسی میں موجود ہیں اسے ملکی وے کہا جاتا ھے جس میں کھربوں ستارے اور سیارے پاۓ جاتے ہیں۔ اتنی بہتات میں ہمارا سیارہ زمین گرد کے ذرے سے بھی زیادہ بے وقعت ھے جبکہ کاٸنات میں کھربوں کہکشاٸیں مزید بھی وجود رکھتی ہیں ۔۔۔ یوں کہیے کہ اربوں کاٸناتیں ہماری اس مجموعی کاٸنات کے علاوہ بھی یقیناً ہوں گی۔ وہ اس لیے کہ یہ لامتناہیت کا معاملہ ھے۔ 
اب جسے معلوم نہ ہو اور کوٸی اس سے پوچھے کہ اس بے حیثیت و ناقابل ذکر نکتے پر ساڑھے آٹھ ارب انسان بستے ہیں تو کیا وہ یقین کرے گا؟
مزید یہ بتایا جاۓ کہ اس نکتے کے مختلف منطقوں میں جنگیں بھی جاری ہیں تو وہ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں گی اور وہ ضرور سوچے گا کہ اتنے دور اتنی مہین سی مخلوق کس قسم کے ہتھیاروں کے ساتھ برسر پیکار ہو گی؟ 
اور مزید یہ بتایا جاۓ کہ اس معمولی ترین نکتے میں ایک ایران نامی ملک ھے جس نے سمندری پانی کی ایک تنگ سی گزرگاہ کو بند کر کے خود سے کٸ گنا طاقتور ملکوں کو وختہ ڈال رکھا ھے.  تو وہ ہسٹریا کے مریض کی طرح چلا اٹھے گا کہ ۔۔۔ ”نہ جی نہ ۔۔۔ انج کیویں ہو سکدا اے۔ ایویں چولاں نہ مارو ! “

مزید یہ کہ ناسا کا آرٹیمس ٹو مشـن کے ساتھ تقریباً 41 منٹ تک رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ جب اورین کیپسول چاند کے گرد چکر لگا رہا تھا اس دوران اورین کیپسـول اور مشـن کنٹرول روم کے درمیان کوئی ڈیٹا یا ٹرانسمیشن بھیجا یا موصول نہیں ہوسکا۔ چاند درمیان میں آنے کی وجہ سے دونوں طرف سے ریڈیو سگنلز بند ہو گئیں۔ 

ناسا سائنسدانوں کے مطابق جب اورین کیپسول far side of the moon سے گزر رہا تھا، تو زمین اور اورین کیپسول کے درمیان آنے والے ریڈیو سگنلز کو چاند نے بلاک کر دیا تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تقریباً 41 منٹ تک بغیر رابطے کے چاروں خلاباز چاند کے گرد چکر لگا رہے تھے چونکہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ رابطہ کچھ وقت کے لیے منقطع ہوگا اسلیے انہوں نے پہلے سے تیاری کر لی تھی یہ اپولو مشن کے ساتھ بھی ہوا تھا عام طور پر جب آپ کسی بڑے پہاڑ کے پیچھے جاتے ہیں تو موبائل کا سگنل بند ہو جاتا ہے اورین کیپسول کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا،، لیکن خلابازوں کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ایسا ہو گا، اس لیے وہ گھبرائے نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ "Artemis Il" مشـن چاند کے گرد چکر لگانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔  اب وہ زمین پر واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔  انہوں نے چاند کی فلائی بائی مکمل کر لی ہے۔ ارٹیمـس مشن کے چار خلابازوں نے زمین سے 252,756 میــــل کا سفر کیا، تاریخ میں کسی بھی انسان نے اتنا سـفر نہـیں کیا ہے۔۔ یہ تاریخ میں لکھا جائے گا۔ اب ان کی مکمل توجہ زمین کی واپسی پر ہے۔۔ دس دنوں میں یہ 1.1 ملین کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے زمین پر واپس آئیں گے اس وقت یہ آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!



NASA Artemis II Mission - 2026



Artemis II Pic from space 


ارٹیمس ٹو مشن چاند کے 4,067 میل قریب گیا۔یہ فاصلہ نیویارک سے لندن سے زیادہ قـریب ہے۔ 1972 کے بعد سے کوئی انسان چاند کے اتنا قریب نہیں گیا ہے، لیکن سال 2026 کو ارٹیمس ٹو مشن نے ڈیلیور کیا۔ کمانڈر ریڈ وائزمین اور اس کے عملے نے صرف چاند کے قریب پرواز نہیں کی بلکہ انہوں نے چاند کی تصویر کشی بھی کی اس کا مطالعہ کیا اس پر سنسرز پاس کیے۔انہوں نے چاند کے قدیم گڑھے، اربوں سال پرانا لاوا دیکھا۔۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ٹیلیسکوپ سے نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔ یہ حقیقی تصویر ہے، جو اورین کیپسول سے اس وقت لی گئی، جب وہ چاند کے far side of the moon سے گزر رہا تھا۔

کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ کائـنات میں کیا چل رہا ہے؟ یقینا آپ کو بالکل ڈر نہیں لگتا ہوگا۔لیکن یقین مانیں کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ سب سے پہلے تو مجھے اس چیز سے بہت ڈر لگتا ہے کہ ہم "زمین" پر رہ رہے ہیں اور زمین خلا میں ہے، اس کے آگے پیچھے دائیں بائیں اوپر نیچے ہر طرف خلاء ہی خلاء ہے لیکن ڈر اس بات سے نہیں لگتا کہ زمین کی اطراف میں خلا ہی خلاء ہے، بلکہ ڈر اس بات سے لگتا ہے کہ زمین مسلسل موشن میں ہے۔ ہمارا سورج ملکی وے کہکشاں کے ساتھ مسلسل بھاگ رہا ہے لیکن صرف یہی نہیں بلکہ اپنے گرد بھی گھوم رہا ہے۔اگر یہ کسی دن اچانک رک گیا تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ کچھ بھی نہیں۔ زمین پر جو بھی ہے سب کچھ خلاء میں ہوگا۔ اور زمین سورج کے اندر ہوگی۔۔ خلاء میں شدید سردی اور اندھیرا ہے اگرچہ ایسا ہوگا نہیں لیکن ڈر ہمیشہ رہتا ہے۔اسکے علاوہ خلائی پتھروں کا ڈر تو ہمیشہ سے رہتا ہے پہلے تو ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ یہ خلائی پتھر کہاں سے آتے ہیں۔ لیکن اب ہم جان چکے ہیں کہ یہ ہمارے "نظام شمسی" میں کہاں کہاں پر "موجود" ہیں۔ کبھی کبھی سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری زمین شاید بلیک ہول کے اندر ہو۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ڈرنے کی بات ہے کہ ہم اکیلے ہیں اور اگر ہم اکیلے نہیں ہیں تو وہ "مخلوق" کہاں ہے؟ اور ہم سے کتنی دوری پر موجود ہے؟ 

اگر ہم اکیلے ہیں تو یہ ڈرنے کی بات اس وجہ سے بھی ہے کیوں کہ کائنات بے انتہا بڑی ہے،،،،،،،، ہم ایک ایسے صحرا میں ہیں جہاں اس پاس کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ ہم دس ہزار نسلیں بھی مسلسل کوشش کریں اس صحرا سے پھر بھی نہیں نکل سکتے، ہم بری طرح پھنس گئے ہیں۔ہم اگر روشنی کی رفتار بھی پکڑلیں نکلنا پھر بھی مشکل ہے۔ بلکہ ناممکن ہے۔ اس تصویر میں زمین کی اوقات اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!




Artemis II Pic from space 





Artemis II Pic from space 
ناسا کے 'آرٹیمس دوم' مشن کے خلاباز خلا میں سب سے زیادہ دور تک پہنچنے والے پہلے خلاباز بن گئے ہیں۔ 
آرٹیمس دوم نے چاند کے سب سے دور دراز حصے کا چکر کاٹا اور ایک تاریخی سفر مکمل کرنے کے بعد اب واپسی کے سفر پر رواں دواں ہے۔خلا بازوں کی زمین پر واپسی کا سفر چار دن میں مکمل ہوگا اور وہ امریکہ کے ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق ہفتے (11 اپریل 2026)  کی شب آٹھ بج کر سات منٹ پر بحرالکاہل میں اتریں گے۔
منگل کو چاند کے عقبی حصے کی طرف سے گزرنے کے عمل کے دوران خلائی جہاز پر سوار چاروں خلاباز اس وقت زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر سفر کرنے کا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوئے جب وہ کرۂ ارض سے چار لاکھ چھ ہزار سات سو اکہتر کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے۔
اس سے قبل زمین سے سب سے دور سفر کا ریکارڈ اپالو 13 کے عملے کے پاس تھا جو 1970 میں چار لاکھ ایک سو اکہتر کلومیٹر دور پہنچے تھے۔۔

No comments:

Post a Comment

Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.

Advertisement