اوزون تہہ
Ozone Layer
اوزون ایک سہہ ایٹمی سالمہ ہے جو آکسیجن کے تین ایٹموں (O3) پر مشتمل ہے۔ قدرتی طور پر زمین کے گرد فضا میں گیس کی ایک تہہ ہے جسے اوزون تہہ یا اوزون شیلڈ کہتے ہیں۔ اوزون کی پرت 1913ء میں فرانسیسی طبیعیات دان چارلس فیبری اور ہنری بوسن نے دریافت کی تھی- یہ سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کر لیتی ہے اور صاف شفاف غیر نقصان دہ شعاعوں کو ہم تک پہنچنے دیتی ہے، یہ آکسیجن کا ہی ایک بہروپ ہے فضا میں اوزون O3 آکسیجن ایٹم O کو آکسیجن O2 کے ساتھ جڑ کر تشکیل پاتا ہے۔ بالائی فضاء میں اوزون ایک چھَلنی کے طور پر کام کرتی ہے، جو نقصاندہ شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ زمین کی سطح سے تقریباً 19 کلومیٹر اوپر اور 48 کلومیٹر کی بلندی تک موجود اوزون کی اس تہہ میں سورج سے آتی ہوئی تیز شعاعیں آکسیجن کے ساتھ کیمیائی عمل(photochemical reaction) کر کے اوزون بناتی ہیں اگر یہ شعاعیں اس طرح سے وہاں خرچ نہ ہو جائیں تو یہ نیچے زمین پر پہنچ کر جانداروں میں سرطان اور نباتات کی تباہی کا باعث بنیں گی اور اگر نباتات کو قابل قدر نقصان پہنچ جائے تو ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے لگے گی اور گرین ہاؤس کی تباہی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا- کرہ ہوائی کی آکسیجن جب سورج سے آتی ہوئی 185 نینومیٹر لمبی موج والی الٹرا وائیلٹ C جذب کرتی ہے تو اوزون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اوزون جب سورج کی 255 نینومیٹر لمبی موج والی الٹراوائیلٹ (Hartley bands) جذب کرتی ہے تو ٹوٹ کر دوبارہ آکسیجن بناتی ہے مگر ہوا میں موجود نائٹروجن (nitrogen) کے کچھ مرکبات اوزون کی مقدار ایک خاص حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتے۔ اوزون کی تہہ بننے کا عمل کروڑوں سال سے جاری ہے اور 1970ء کی دھائی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کچھ مرکبات "اوزون" کی اس تہہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ chemicals کلوروفلوروکاربن (chloro floro carbon) کہلاتے ہیں جو refrigerator اور ایروسول اسپرے میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ فضا میں جا کر سورجی شعاعوں کی وجہ سے اپنے اجزاء میں تحلیل ہو کر کلورین بناتے ہیں، جو اوزون کی تہہ کو ہلکا کر دیتے ہیں، اسی طرح مصنوعی کھاد میں استعمال ہونے والے بعض مرکبات مثلاً نائٹرس آکسائیڈ بھی اوزون کے لیے تباہ کن ہیں اگر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے تو سفید چمڑی والے انسان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں بہ نسبت کالی چمڑی والوں کے۔ اوزون انسانی پھیپھڑوں کے لیے سخت نقصان دہ ہوتی ہے لیکن انسان اس کی زد میں اس لیے نہیں آتا کہ اوزون کی تہہ 19 کلو میٹر اوپر جا کر شروع ہوتی ہے۔ سطح زمین پر اوزون شرارے کے نتیجے میں بنتی ہے مثلاً آسمانی بجلی کا کڑاکا یا کاربن برش والی بجلی کی موٹر، سپر سونک ہوئی جہاز وغیرہ۔ گذشتہ چند سالوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث اوزون کی اس حفاظتی تہہ میں کمی ہوتی دیکھی گئ ہے- نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق یورپین کنٹریز اور ارجنٹینا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقا وغیرہ کم ہوتی اوزون میں شامل ہیں۔ ان تمام علاقوں میں سردی کے موسم میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ کم درجہ حرارت پر کلوروفلورو کاربنز (کلورین فلورین اور کاربن پر مشتمل کمپاؤنڈر جو ریفریجریٹرز اور مختلف مصنوعات کی پیکنگ میں استعمال ہوتے ہیں) تیزی سے کلورین گیس میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس طرح الٹراوائلٹ شعاعوں اور کلورین کا آپسی تال میل وسیع پیمانے پر اوزون کی تباہی کا باعث بن رہا ہے- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 16 ستمبر کو اوزون پرت کے تحفظ کے عالمی دن کے طور پر نامزد کر رکھا ہے کیونکہ زمین کے حیاتیات کی بقاء کے لئے اوزون کی پرت ناگزیر ہے
اگر آپکو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کو دوستوں کے ساتھ شیئرکرائیں۔

No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.