شہاب ثاقب
شہاب ثاقب عربی زبان کا لفظ ہے شہاب کا معنیٰ ہے دہکتا ہوا شعلہ اور ثاقب کا معنیٰ ہے سوراخ کرنے والا ۔ہمارے نظام شمسی میں مریخ اور مشتری کے مدار کے درمیان چکر لگانے والے خلائی پتھر جنہیں ’’ سیارچے ‘‘ (Asteroids) کہا جاتا ہے بعض اوقات زمین کی طرٖف آجاتے ہیں اور زمین کی فضا سے رگڑ کھانے سے ان میں اتنی حرارت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ جل کر راکھ ہوجاتے ہیں اور اس کی روشنی ہمیں نظر آتی ہے اس کو ہم تارا ٹوٹنے سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ شہاب ثاقب کا یہی معنیٰ سائنسی و فلکیاتی اصطلاح میں ہے.
شہاب ثاقب کو شہاب ثاقب کیوں کیا جاتا ہے؟ شہاب کا معنیٰ ہے دہکتا ہوا انگارہ: شہاب ثاقب جب زمین کی فضا سے ٹکراتا ہے تو انگارہ بن کر روشن ہوتا ہے اور جل کر راکھ ہوجا تا ہے۔ ثاقب کا معنیٰ سوراخ کرنے والا ہے: شہاب ثاقب زمین کی فضا سے ٹکرا کر ایسے روشن ہوتے ہیں گویا تاریکی میں سوراخ کردیا ہو یا وہ اتنی زور سے ٹکراتے ہیں کہ گویا زمین کی فضا میں سوراخ کردیں گے.
قرآن میں شہاب ثاقب کا ذکر ان سے آسمانوں کی حفاظت کا کام لینے کے طور پر آیا ہے ۔ سورۃ الجن میں جنوں کا بیان ہے:”اور یہ کہ : ہم پہلے سن گن لینے کے لیے آسمان کی کچھ جگہوں پر جا بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب جو کوئی سننا چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک شعلہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔ (الجن ، آیت 9)
صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم آسمان میں جاری فرماتے ہیں تو سب فرشتے بغرض اطاعت اپنے پر مارتے ہیں اور جب کلام ختم ہوجاتا ہے تو باہم تذکرہ کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ اس تذکرہ کو آسمانی خبریں چرانے والے شیاطین سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس اس میں بہت سے جھوٹ شامل کر کے پہنچاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے شیاطین کا آسمانی خبریں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھا۔ شیاطین فرشتوں سے سن لیا کرتے تھے۔ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے وقت آپ کی آسمانی وحی کی حفاظت کے لئے اس سلسلہ کو اس طرح بند کردیا گیا کہ جب کوئی شیطان یہ خبریں سننے کے لئے اوپر آتا تو اس کی طرف شہاب ثاقب کا انگارہ پھینک کر اس کو دفع کردیا جاتا ۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جب پہرے سخت ہوگئے تو جنات کو تشویش ہوئی انہو ں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ زمین کے مشرق و مغرب میں گھوم پھر کر دیکھتے ہیں کہ کیا بات ہوئی ہے کہ اب ہم اوپر نہیں جاسکتے۔ چنانچہ جنات کی مختلف جماعتوں کو زمین کے اکناف و اطراف کی طرف بھیجا گیا تاکہ معلوم کریں کہ دنیا میں کون سی نئی بات ہوئی ہے۔ جنات کا ایک گروہ جن کی تعداد نو یا سات تھی اسی تفتیش میں وادی نخلہ سے گزر رہا تھا وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں تلاوت فرما رہے تھے ۔جب ان جنات نے قرآن سنا تو اسے غور سے سننے لگے۔ پھر انھوں نے (آپس میں) کہا، اللہ کی قسم ! جو چیز تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے وہ یہی ہے، پھر وہاں سے جب وہ اپنی قوم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے ہماری قوم ! ( اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا يَّهْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا) [ الجن : ١، ٢ ] ” بلاشبہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو کبھی شریک نہیں کریں گے۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ قرآن سن کر سارا گروہ ایمان لے آیا اور واپس چلا گیامگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم نہ ہوا ۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجن کے ذریعے آپ ؐ کو اس واقعے سے آگاہ کیا اور آپ ؐ پر جنوں کی بات چیت وحی کی گئی ۔ [ بخاری، کتاب الأذان، باب الجھر بقراءۃ صلوۃ الصبح : ٧٧٣۔ مسلم، کتاب الصلوۃ، باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن : ٤٤٩ ]
شہاب ثاقب جس کو عرف میں ستارہ ٹوٹنا یا عربی میں انقضاص الکوکب کہتے ہیں’ دنیا میں قدیم زمانہ سے ظاہر ہوتا آرہا ہے ۔ ان آثاروروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں ان سے دفع شیاطین کا کام بھی لیا جانے لگا ۔ یہاں یہ ضروری نہیں کہ جتنے شہاب ثاقب نظر آتے ہیں سب سے ہی یہ کام لیا جاتا ہو۔ تاریخ عرب سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب شہاب ثاقب کو بہت حیرت سے دیکھتے تھے ، شہاب ثاقب کا گرنا معروف تھا لیکن انکے نزدیک یہ پہلے اس وقت ہوتا تھا جب کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہوتا تھا، کوئی بڑا مرتا یا پیدا ہوتا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں نبی ؐ نے انکے اس عقیدے کی یوں تصحیح کی کہ یہ شہاب ثاقب نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرائے جاتے ہیں نہ کسی کی حیات کی وجہ سے ، یہ لغو خیال ہے ان کا کسی کے مرنے جینے سے کوئی تعلق نہیں یہ شعلے شیاطین کو دفع کرنے کے لئے پھینکے جاتے ہیں۔(صحیح مسلم حدیث 1322)
ان لوگوں کی رائے کا تعلق چونکہ عقیدے سے تھا اس لیے آپ ؐ نے تصحیح بھی عقیدے کے حوالے سے کردی ۔ قرآن و حدیث نے شہاب ثاقب کی اس خصوصیت کا ہی ذکر کیا جس کا تعلق شریعت سے تھا کہ ان کے ذریعے سرکش شیاطین کو مارا جاتا ہے ان کی دیگر خصوصیات کہ یہ زمین کی کشش کی وجہ سے زمین کی فضا سے ٹکراکر بھسم ہوجاتے ہیں یا یہ کیسے جلتے ہیں ، اصل میں کیا چیزیں ہیں ، کہاں سے آتے ہیں اور بنے کیسے ہیں وغیرہ کی سائنسی تفصیل کا شریعت کیساتھ تعلق نہیں اس لیےاسکا ذکر بھی نہیں کیا گیا ۔ چنانچہ یہ سائنسی بیان کہ فضا میں چکر کھاتے وزنی پتھرجب زمینی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہوجاتے اور کہیں زمین پر ٹوٹ کر گرپڑتے ہیں’ قرآن کی بتائی ہوئی حکمت کے منافی نہیں ۔قرآن کو ان کی ترکیب، ساخت وغیرہ سے مطلق بحث نہیں، وہ اپنے موضوع کے اندر رہ کر صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ ان سے کام شیطان کے بھگانے کا بھی لیا جاتا ہے ۔
یہ ضروری نہیں یہ بے حدو حساب شہابِ ثاقب جو کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہوتی رہتی ہے ‘ صرف شیطانوں کو ہی مارے جاتے ہیں یا یہ جب شیطانوں کو مارے جاتے ہیں تو تب ہی گرتے نظر آتے ہیں بلکہ ان سے حفاظت کا کام بھی لیا جاتا ہے، یہ اس امر میں مانع ہیں کہ زمین کے شیاطین عالمِ بالا میں جا سکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو فرشتے ان شہاب کے ذریعے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ اس چیز کو خصوصی طور پر بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعوٰی بھی تھا، کہ شیاطین اُن کے تابع ہیں، یا شیاطین سے اُن کا رابطہ ہے ، اور اُن کے ذریعہ سے اُنہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتا سکتے ہیں۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالمِ بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے
(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،الحجر،حواشی۹تا۱۲۔جلد چہارم، الصافات، حواشی۶،۷)۔
نظامِ شمسی میں کروڑوں کی تعداد میں چھوٹےبڑے پتھر اور چٹانیں شُتر بے مہار بنے پھر رہے ہیں۔۔۔ ان میں کوئی بھی کسی وقت آفت ناگہانی بن کر زمین پر چڑھ دوڑتا ہے۔
فلکیاتدان خلائی پتھروں اور چٹانوں کے لیے مختلف جگہوں پر مختلف نام استعمال کرتے ہیں جس سے انسان شش و پنج میں پڑ جاتا ہے۔۔ مزید کچھ پڑھنے سے پہلے ان میں فرق جان لیتے ہیں
میٹیورائیڈ: نسبتاً چھوٹا خلائی پتھر
جسکا سائز ریت کے ذرے سے لیکر ایک چھوٹے ایسٹرائڈ سے کچھ کم ہو
میٹیور: زمینی فضا میں داخل ہونے والا
میٹیورائیڈ جو ہوائی رگڑ سے جل کر روشن ہوجائے۔۔۔
میٹیورائٹ: وُہ میٹیور جو سطح زمین پر
کامیابی سے لینڈ کرجائے
ایسٹرائیڈ: وُہ خلائی جسم جو سورج
کے گرد مدار رکھے، سائز بڑے میٹیورائیڈ سے زیادہ اور ایک سیارے سے کم ہو
کومٹ: زیادہ تر برف اور دھول پر مشتمل
خلائی جسم جو گیسی دم اور ہالہ کے ساتھ ہو۔
جس نے نیٹ فلیکس مووی " ڈونٹ لک اپ" دیکھی ہے اُسے اندازہ ہوگا جب ایک کافی بڑا کومٹ زمین سے ٹکراتا ہے توکیا تباہی مچاتا ہے۔۔
مریخ اور چاند پر بنے گڑھوں کے نشانات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
ماضی میں زمین بھی کئی بار ایسے سنگین حادثات سے گزری ہوگی، مریخ اور چاند پر تو خلائی چیزوں کے ٹکرانے کے نشانات موجود ہیں مگر زمین پر ان حادثات کے اکثر نشانات ہوا، پانی اور درختوں کی موجودگی وجہ سے مٹ جاتے ہیں۔۔۔ اگرچہ ان خلائی ٹکروں کے اکثر ثبوت مٹ چکے ہیں لیکن کچھ نشانات اب بھی باقی ہیں۔۔ ماہرین ارضیات نے زمین کے مختلف علاقوں میں 192 ایسے گڑھے دریافت بھی کیے ہیں،
اوسلو یونیورسٹی کے پروفیسر آف جیو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی "ہننگ ڈائپویک" کہتے ہیں مریخ پر خلائی حادثات کے اب تک 42000 گڑھے دریافت ہی چکے ہیں
یہ پروفیسر ناروے میں رہتے ہیں اور ایسے گڑھوں کے ماہر ہیں جو خلائی پتھروں کے ٹکرانے سے بنتے ہیں ایسے گڑھوں کے لئے انگلش میں ایک مخصوص لفظ Craters استعمال ہوتا ہے
ڈپویک ناسا کے تازہ ترین مریخی روور پروجیکٹ میں شامل ہیں اس مشن کا ٹارگٹ مریخ کا جزیرو کریٹر ہے جو 45کلومیٹر کا قطر رکھتا ہے۔
خلا سے آنے والے پتھر مختلف سائز کے ہوتے ہیں اور چھوٹے مادی ذرات تو ہر وقت آتے رہتے ہیں۔۔۔ مٹر کے دانے جتنے یا اس سے تھوڑے کم سائز کے ذرات شوٹنگ سٹارز بننے کی وجہ بنتے ہیں۔۔۔ یہ چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا کے مالیکیولز کی رگڑ سے جل کر چمکتی گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں اس رگڑ سے اِرد گرد کی ہوا بھی شدید گرم ہوکر روشن ہوجاتی ہے۔۔۔
بعض اوقات یہ شوٹنگ سٹارز ضرورت سے زیادہ نظر آتے ہیں اس واقعہ کو " میٹیور شاور" کہتے ہیں۔۔۔
(1833 میں ہونیوالی لیونڈ میٹیور شاور کی تخیلاتی تصویر نیچے موجود ہے)
یہ شاورز مخصوص اوقات میں ہوتی ہیں۔۔
مثلاً ہر سال اگست کے مہینے ہونیوالی میٹیور شاور یا پھر ہر 33سالوں میں نومبر کے مہینے میں ہونیوالی لیونڈ میٹیور شاور۔۔۔۔
ان شاورز کی وجوہات: بعض ماہرین کے مطابق زمین جب اپنے مدار میں کسی ایسے راستے سے گزرتی ہے جہاں سے کسی کومٹ کا گزر ہوا ہوتا ہے جو اپنے سفر کے دوران اپنا بہت سا مٹیریل خلا میں چھوڑ دیتا ہے۔۔۔ اور یہ میٹیریل زمین کی فضا میں شہابیوں کی بارش (میٹیور شاور) کی صورت برس پڑتا ہے۔۔۔۔
میٹیرور شاور بہت حسین اور سحر انگیز منظر ہوتا ہے مگر خلائی پتھر خود اپنی ذات میں بہت حیرت انگیز نظر آتے ہیں، جب یہ زمین کی فضا داخل ہوتے ہیں تو آسمان پر شعلوں کی نہایت روشن لکیریں بن جاتی ہیں انہیں "فائر بالز" کہتے ہیں۔۔۔ یہ اُن پتھروں کا نتیجہ ہوتے ہیں جو کم سے کم ایک کرکٹ گیند جتنے ہوتے ہیں۔۔۔
امریکی مٹیور سوسائٹی کی تحقیقات کے مطابق روزآنہ اوسطاً 30 چھوٹے پتھر خلا سے زمینی فضا میں داخل ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان میں سے کچھ زمین کی سطح پر بھی گرتے ہیں اور ان کے گرنے کے بعد ان کو تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔
جن پتھروں کا سائز باسکٹ بال یا اس سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے وُہ بعض اوقات اپنا بہت سا مواد ضائع کرنے کے بعد زمین کی سطح پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔۔۔ اس کامیاب لینڈنگ کا انحصار پتھر کے میٹیریل پر ہوتا ہے۔۔۔ مثلاً عام پتھر تو عموماً فضا میں ہی جل کر راکھ بن جاتا مگر لوہے جیسی بھاری دھاتوں سے بنے پتھروں کے زمین کی سطح تک پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔۔
واہل جو ناروے کی اسپیس ایجنسی میں زمینی مشاھدات کے شعبہ کے ڈائریکٹر ہیں،، کہتے ہیں: اگر خلائی چٹانیں عام طور سے ھٹ کر تھوڑی بڑی ہُوں تو یہ زمینی فضا کے پریشر سے اکثر ہی فضا میں پھٹ جاتی ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے زمین پر برستے ہیں۔۔
سالانہ سینکڑوں ٹن خلائی ملبہ (اوسطاً 50 ٹن روزآنہ) پتھروں، چٹانوں دھول مٹی کی صورت میں زمین پر آتا ہے۔۔۔ اسی دوران زمین اپنا سینکڑوں ٹن (سالانہ حساب سے) فضائی مادہ خلا میں کھو دیتی ہے۔
2019میں ایک کار کے سائز کا پتھر (تقریباً 4میٹر لمبا) زمینی فضا میں داخل ہوا اور زمین پر ٹکرانے سے قبل فضا میں ہی پھٹ گیا
آن لائن نیوز سروس "لائیو سائنس" کے مطابق اس فائر بال میں 6000ٹن tnt کے برابر توانائی تھی۔۔۔
ناسا کے مطابق 4میٹر لمبے پتھر زمینی فضا میں سالانہ ایک بار کے حساب سے داخل ہوتے ہیں اور اکثر فضا میں ہی ختم ہوجاتے ہیں اور بہت کم زمین سے ٹکراتے ہیں
2007میں پیرو میں 3میٹر لمبا شہابیہ گرا اس نے 13 میٹر قطر کا گڑھا بنایا۔۔۔ یہ غیر معمولی بات تھی کہ 3میٹر لمبا شہابیہ صرف 13میٹر قطر کا گڑھا بنا پایا کیونکہ ماہرین کے مطابق شہابیے کی سائز سے ٹکراؤ کے سبب بننے والا گڑھا تقریباً 20 گنا بڑا ہوتا ہے
یہ زمین کے سب سے کم عمر گڑھوں میں سے ایک ہے
۔۔۔
1994 سے 2013 تک ناسا نے ریکارڈ کیے گئے پتھروں کو دکھایا۔۔۔ ارتھ آبزرویٹری کے مطابق خلائی پتھروں میں ایک میٹر سے 20میٹر تک کے لمبے پتھر شامل ہیں۔۔ اُنہوں نے آسمان کو روشن کیا ناسا نے اُن کی درجہ بندی فائر بال کے طور پر کی۔۔۔۔یہ سبھی فضا میں جل گئے ان میں (ایک کے سوا) کوئی بھی نقصان کا باعث نہیں بنا۔
15 فروری 2013 کو روسی شہر چلیا بنسک کے شہریوں اور گرد و نواح کے لوگوں نے ایک غیر معمولی روشن فائر بال (17 سے بیس میٹر چوڑی) کو دیکھا یہ سطح زمین سے 30کلو میٹر اُوپر ہی پھٹ گئی.. مگر اس کی پریشر ویوز سے بہت سی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے کچھ عمارتوں کو جزوی نقصان بھی پہنچا 1600 افراد زخمی ہوئے
زخموں کی زیادہ تر وجہ کھڑکیوں کے ٹوٹنے والے شیشے تھے۔۔۔ اُن لوگوں نے اپنی آنکھوں اور جسم کو زخمی کر لیا جو حیرت انگیز فائر بال کا نظارہ کرنے کھڑکیوں کے پاس جا دھمکے۔۔۔ اس کے علاوہ کئی میل کے علاقے میں دیہاتی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔۔۔
یہ 1908 کے بعد سب سے طاقتور خلائی واقعہ تھا
1908 میں سائبیریا کے ایک علاقہ ٹنگوسا میں ایک پراسرار اور خوفناک واقعہ پیش آیا
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق اس واقعہ سے ایک زوردار دھماکہ کی آواز سنی گئی۔۔۔ اس کے بعد بڑے پیمانہ پر جنگل کے 2000 مربع کلو میٹر کے ایریا میں آگ بھڑک اٹھی۔۔۔ اور اس آگ کو بعد میں پریشر ویو نے بُجھا دیا
عینی شاہدین (وکیپیڈیا پر رپورٹیڈ) کے مطابق ایک گرج دار دھماکہ ہوا اس کے بعد شدید گرمی اور زلزلے کی کیفیت پیدا ہوئی۔۔۔۔
ماہرین نے کئی سال بعد اس جگہ کی تحقیق کی اُنہیں جلے اور اکثر جڑوں سے اکھڑے ہوئے درخت ملے۔۔۔ مگر دھماکے کا کوئی نشان کسی گڑھے کی صورت میں نہ ملا،،، اتنے بڑے علاقہ کی تباہ کن صورت حال دیکھ کر ماہرین نے کہا اگر یہ واقعہ امریکہ میں پیش آتا تو نیویارک جیسے دو بڑے شہر مکمل تباہ ہوجاتے۔۔۔ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک یہ واقعہ نہایت پراسرار رہا۔۔۔۔آخر کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2019میں ناسا نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی کہ اس خوفناک واقعہ کی وجہ 50میٹر سے 80 میٹر کی ایک خلائی چٹان تھی جو زمین سے 10سے 20 کلو میٹر اُوپر ہی پھٹ گئی تھی۔۔۔ اگر یہ زمین سے ٹکرا جاتی تو مزید تباہ کن صورت حال پیش آ سکتی تھی اور ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر بڑا گڑھا بننے کے امکانات بھی بن جاتے
ایریزونا میں ایک مشہور گڑھا موجود ہے جو
2۔1کلو میٹر قطر کا ہے گڑھوں کے ماہر ڈیپ وک کا کہنا ہے کہ یہ 50ہزار سال پرانا ہے یہ ایک لوہے کی 50 میٹر لمبی خلائی چٹان کے ٹکرانے کے سبب بنا
اس حادثے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوگی
دھول گیس اور راکھ نے بہت عرصہ اس علاقہ کو گھیرے رکھا ہوگا
فزکس ٹوڈے میں دو ماہرین کے مشترکہ مضمون کے مطابق اس امپیکٹ سے پیدا ہونے والی توانائی کسی بڑے اور جدید شہر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی
اس کی پریشر ویوز نے متاثرہ جگہ سے 6کلو میٹر کے دائرہ میں جانداروں کو موت کی نیند سلا دیا ہوگا
10 سے 12کلو میٹر کے علاقے میں موجود جانداروں کے پھیپھڑوں کی نقصان پہنچایا ہوگا
ایریزونا اور ٹنگوسا کے واقعات میں چٹانیں 50 سے 80 میٹر کے درمیان کی سائز کی تھیں
مگر جس کومٹ یا سیارچے نے ڈائنوسارز کی نسل مٹائی وُہ 10 سے 12 کلو میٹر چوڑا تھا۔
انڈونیشیا میں دیکھے جانے والے شہاب ثاقب کی وڈیو کا لنک

No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.