Urdu Digital Knowledge,Free Urdu Knowledge Resources,Complete Urdu Digital Education, Urdu mein digital knowledge kaise hasil karen,Free Urdu online courses aur ebooks,Urdu digital library books pdf,Urdu knowledge website Pakistan,Urdu language learning online free,Urdu literature aur shayari digital collection,Online Urdu education platform,Urdu general knowledge questions answers,Urdu mein science, Latest Knowledge, Knowledge, Multi Knowledge, NASA Space Mission, Online Earning Tips and Tricks

Subscribe Us

Breaking

Advertisement

Translate

Friday, February 18, 2022

Earth in 1999 (Inter Steeler Space)

 


1999 میں آج کے دن، ویلنٹائنز ڈے کے موقع پر جب ناسا کا وائیجر 1 نامی مشن زمین سے 6 ارب کلومیٹر دور، ہمارے نظام شمسی کے آخری بڑے سیارے نیپچون کی حدود سے نکلتا ہوا اور ہمارے نظام شمسی کو خیر باد کہتے ہوئے، انٹرسٹیلر سپیس میں قدم رکھنے والا تھا تو مشہور سائنسدان کارل سیگن کی درخواست پر سپیس کرافٹ کے کیمرے کو آخری بار بند کرنے سے پہلے زمین کی طرف موڑ کر ایک تاریخی تصویر لی گئی، جس میں زمین خلا کے بے کراں وسعتوں میں میں معلق، ایک معمولی سے بے رنگ دھبے کی طرح نظر آتی ہے۔ اس تصویر کو کارل سیگن نے The Pale Blue Dot کا نام دیا اور اپنے جادوئی الفاظ سے مزین دماغ کی کھڑکیوں کو کھول دینے والی ایک تقریر میں بیان کیا جس کا مختصر سا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

"اگر کوئی اس نقطے کو کائنات کے کسی دور دراز گوشے سے دیکھے تو شاید اس کیلئے اس میں دلچسپی کی کوئی بات نہ ہو لیکن ہمارے لئے یہ اور بات ہے۔ زرا اس نقطے کو ایک بار پھر سے دیکھیں، یہ ہمارا گھر ہے، یہ ہم ہی ہیں، اس چھوٹے سے نکتے پر ہر وہ انسان جس سے آپ محبت کرتے ہیں، ہر وہ شخص جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں، ہر وہ شخص جسے آپ نے سن رکھا ہے یا جس کے بارے میں کبھی سن رکھا ہے،  ہر وہ انسان جو کبھی زندہ تھا اس نے اس پر اپنی زندگی بسر کی ہے، ہر خوشی اور غم جس کا ہم نے سامنا کیا، ہزاروں پُر اعتماد مذاہب، نظریات اور معاشی نظام، ہر شکاری اور شکار، ہر بہادر اور بزدل، انسانی تہذیب کے تخلیق کار اور تخریب کار، ہر جاگیردار اور مزارع، محبت میں گرفتار ہر جوان جوڑا، ہر ماں اور باپ، امنگوں سے بھرپور ہر بچہ، ہر موجد اور کھوجی، اخلاقیات کا ہر داعی، نظامِ سیاست کا ہر داغی اور بد عنوان سیاستدان، ہر سپر سٹار، ہر سپریم لیڈر، ہر نیکو کار اور ہر بدکار انسان نے سورج کی روشنی میں معلق اس بے رنگ نیلے دھبے پر اپنی زندگی بسر کی ہے۔ 

کائنات کی وسیع نقطہ نگاہ سے ہماری زمین ایک چھوٹا سا سٹیج ہے۔ ذرا سوچئے خون کی ان ندیوں کے بارے میں جو جرنیلوں اور شہنشاہوں نے فتح پانے کے لئے بہا دی، صرف اس لئے کہ وہ اس حقیر سے نقطے کے ایک عشر عشیر حصے پر چند پل کے لیے شان و شوکت سے حکمرانی کر سکے، ذرا اس بے تحاشہ ظلم و ستم کے متعلق سوچئے جو اس نقطے کے ایک کونے میں موجود رہائشیوں نے دوسرے کونے پر موجود اپنے سے کچھ ہی مختلف دوسرے انسانوں پر ڈھائے۔ ان میں کتنی غلط فہمیاں ہیں، یہ کیسے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، ان میں کتنی شدید نفرت ہے۔ ہمارے رکھ رکھاؤ، ہمارے اہم ہونے کی خام خیالی، ہماری خوش فہمیاں کہ ہم اس کائنات میں کوئی خصوصی درجہ رکھتے ہیں، ہمارے سارے دعوؤں پر اس مدھم اور مبہم سے دھبے کی اس تصویر نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کائنات کے اس بے کراں اندھیرے میں یہ اپنے طرز کا اکیلا زرہ ہے۔ ایک وسیع خلا اور ہمارا مبہم سا وجود، کہیں سے کوئی اشارہ بھی نہیں مل رہا کہ کوئی آ کر ہمیں ہمارے اپنے ہی ہاتھوں برباد ہونے سے بچائے گا۔ اب تک سائنس دانوں کو سوائے زمین کے کوئی سیارہ ایسا نہیں مل پایا جس پر زندگی کا وجود ممکن ہو سکے۔ کم از کم مستقبل قریب میں بھی کوئی ایسا ٹھکانہ نہیں جہاں ہم ہجرت کر سکیں، ہاں ہم جا ضرور سکتے ہیں مگر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہم چاہیں یا نا چاہیں مگر ہمیں یہیں پر بسنا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فلکیات انسان کو عاجزی سکھاتی ہے اور کردار سنوارتی ہے۔ تصویر میں دکھائی دینے والا معمولی سا نقطہ ہماری احمقانہ گھمنڈ کی عمدہ مثال ہے۔  میرے خیال میں یہ نقطہ ہمیں ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے کہ ہم کیسے ایک دوسرے سے مہربانی سے پیش آئے اور کیسے اس ' مدھم نیلے نقطے' کی حفاظت کرے کیونکہ اب تک کی دستیاب تحقیق کے مطابق یہی ہمارا واحد گھر ہے۔"

آج وائیجر ون 23.3 ارب کلومیٹر دور موجود ہے اور ہر سیکنڈ سترہ کلومیٹر کی رفتار سے زمین سے دور جا رہا ہے۔

1977 سے اسکا سفر جاری ہے اور آج تک رکا نہیں، ایک دن آئے گا کہ اسکا یہ سفر بھی اختتام کو پہنچے گا، اس وقت وہ کائنات کے کس کونے میں ہوگا یہ تو کوئی نہیں جانتا، لیکن حضرت انسان کی جستجو اور تخلیق کا سفر کبھی نہیں رکے گا۔

No comments:

Post a Comment

Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.

Advertisement