Urdu Digital Knowledge,Free Urdu Knowledge Resources,Complete Urdu Digital Education, Urdu mein digital knowledge kaise hasil karen,Free Urdu online courses aur ebooks,Urdu digital library books pdf,Urdu knowledge website Pakistan,Urdu language learning online free,Urdu literature aur shayari digital collection,Online Urdu education platform,Urdu general knowledge questions answers,Urdu mein science, Latest Knowledge, Knowledge, Multi Knowledge, NASA Space Mission, Online Earning Tips and Tricks

Subscribe Us

Breaking

Advertisement

Translate

Monday, February 21, 2022

والدین کے لئے تحریر

 



*وہ مائیں جو ہمیشہ اپنے بچوں کو انکے والد سے متعلق منفی باتیں بتاتی ہیں ۔۔۔۔* 

مثلا آپ کے بابا ہمیں وقت نہیں دیتے یا بچوں کے سامنے لڑنا کہ تم نے ہمار لئے کیا ہی کیا ہے؟ یا پھر گھریلو مسائل بچوں کے سامنے ڈسکس کرتی ہیں ۔۔۔۔وہ بچوں کو نفسیاتی طور پہ تباہ کر دیتی ہیں۔


 بچے کسی چیز کی فرمائش کریں تو دو روئیے سامنے آتے ہیں یا تو ہر صورت انکی فرمائش پوری کرنا یا سختی سے رد کرنا ۔۔۔ ہونا یہ چاہیئے کہ بچوں کو کبھی محبت اور طریقے سے بتایا جائے کہ وہ چیز لے کر دینے کی استطاعت نہیں رکھتے اگر ممکن ہوا تو باقی ڈھیروں چیزوں کی طرح یہ بھی دلائیں گے۔


بچوں کے ساتھ سسرال والوں کے ظلم و ستم کہانیاں بنا کے پیش کرنا اور اکثر اوقات اپنے بچوں کو یہ بتانا کہ دادی دادا یا تایا چاچا پھپھو مجھ پہ ظلم کرتے تھے ، آپ سے محبت نہیں کرتے یا دکھاوے کی محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ 


فلاں چچی تائی ممانی وغیرہ اچھی نہیں ۔۔۔۔


فلاں کے گھر گئے تو انہوں نے آپکو ڈانٹا تو نہیں یا کرید کرید کے پوچھنا کہ دوسرے نے آپ سے کیسا سلوک کیا ۔۔۔


باپ بھی دوسری طرف اگر بچوں کے سامنے انکی ماں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتا ہے یا برا سلوک کرتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان اور اثر بھی بچوں کو ہوتا ہے ، بچہ فطری طور پر ماں کے قریب ہوتا ہے اور ایسے رویوں سے وہ خلا پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے ۔


یہ سب باتیں بچوں کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوتی ہیں بچے منفی روئیے سیکھتے ہیں ان کے دل میں باپ سے متعلق نفرت پیدا ہوتی ہے۔۔۔

اور باقی تمام رشتوں سے متعلق کدورت 


کچھ بچے اس احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان سے کوئی محبت نہیں کرتا۔

کچھ بچے یہ سوچتے ہیں کہ انکے اردگرد صرف برے لوگ ہیں۔

پھر وہ ان برے لوگوں سے نمٹنے کے لئے برے روئیے ہی اپناتے ہیں ۔

مختصرا بچوں کو ہمیشہ مثبت باتیں مثبت روئیے بتائیں اور دکھائیں تاکہ مستقبل میں کارآمد شہری بنیں۔۔۔


  بچوں کی نظر میں ماں کو مظلوم ثابت کر کے اور باپ ظالم کو ظالم بنا کے خواتین کوئی فخریہ کارنامہ سرانجام نہیں دیتیں بلکہ آپنے ہی بچے کو ابنارمل بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔


لہذا بچوں کے لئے رول ماڈل بنیں انہیں مفید شہری بنائیں۔

No comments:

Post a Comment

Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.

Advertisement