نسل انسانی کے کائناتی سفیر
۔۔۔۔۔۔۔
میں جب بھی وائجرز کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل طمانیت سے بھر جاتا ہے، مسرت،جوش اور فخر کے ملے جلے جذبے کا نشه سا مجھ پر طاری ہوجاتا ہے
دل ان ننھے مسافروں کی محبت میں مچل مچل جاتا ہے
میرے دل نے ہے انہیں
"""نسل انسانی کے کائناتی سفیر"""
کا خطاب دیا ہے
یہ ننھے مسافر پچھلے 44 سالوں سے محو سفر ہیں یہ ایسے مسافر ہیں جن کی کوئی منزل نہیں جنہیں لمحہ بھر نہ ٹھہرنا ہے، نہ سستانا ہے، بس چلتے جانا ہے۔
یہ بس خلائی جہاز نہیں یہ تو ہماری اُمیدوں کے کہکشاں کے سب سے روشن ستارے ہیں
انہوں نے ہی تو نظامِ شمسی کے قید خانے سے نکل کر ہمارے عزائم کو ایک نئی زندگی بخشی ہے کہ کبھی انسان بھی اس قید خانے سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں گم ہوں گے
میرا دل کہتا ہے یہ انسان کے کائناتی سفر کا ابتدائیہ ہیں
ان ننھے مسافروں کا سفر بڑا ہی دلچسپ، منفرد اور راز افشا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کی تحریر میرے اپنے انداز اور خیالات پر مشتمل ہے
آگے کی تحریر بی بی سی اردو کے ایک مضمون کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیساڈینا کے مضافات میں واقع ایک عام سے دکھنے والے دفتر کی ذیلی منزل کے ایک کیوبیکل میں ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے۔
درحقیقت یہاں روزانہ ہی تاریخ رقم ہوتی ہے۔
یہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز وائجر کا مشن کنٹرول ہے جو جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل) میں واقع ہے۔ آپ کو اس کا پتا کمپیوٹر مانیٹرز کے نیچے گتے پر ہاتھ سے لکھی تحریر سے چل سکتا ہے جس پر لکھا ہے: 'وائجر مشن کنٹرول کا اہم ہارڈویئر۔ چھونے سے گریز کریں۔5 ستمبر1977کو وائجر ون اور 20اگست 1977کو وائجر ٹو کو کیپ کیناویرال اسپیس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا
ان کا مقصد مریخ سے آگے کے چار سیاروں کا قریب سے مشاہدہ کرنا تھا
1977 میں انہیں لانچ کرنے کی وجہ یہی تھی کہ اس سال سفر شروع کرنے سے یہ ان چاروں سیاروں کے قریب سے گزر سکتے تھے
گذشتہ 44 برسوں کے دوران دو وائجر خلائی جہازوں نے سیارہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے ان دنیاؤں کے تفصیلی مناظر زمین پر بھیجے جن میں برف سے ڈھکے، آتس فشاؤں سے اٹے اور ایندھن پر مشتمل سموگ سے بھرے چاند بھی شامل ہیں۔ ان مشنز نے زمین پر ہمارے نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے، اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔
حیران کُن طور پر دونوں وائجر خلائی جہاز اب تک کام کر رہے ہیں۔
جب بھی وائجر 1 کوئی سگنل زمین پر بھیجتا ہے، تو یہ انسان کی تیار کردہ کسی بھی چیز کا سب سے دور سے آنے والا سگنل ہوتا ہے۔
25اگست 2012 میں وائجر 1 ہمارے نظامِ شمسی کی حدود سے نکل گیا تھا اب یہ زمین سے 24 ارب کلومیٹر دور ہے
یہ دوری اتنی زیادہ ہے کہ مریخ پر جو پروبز ہیں انہیں زمین تک سگنل بھیجنے میں 20 منٹ لگتے ہیں، جبکہ وائجر ون ہم سے اتنا دور ہے کہ اُس کو زمین پر سگنل بھیجنے میں 23گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ یہ انسانی ہاتھوں کی بنائی ہوئی واحد چیز ہے جو اتنی دور ی تک سفر کر سکی ہے۔ اس وقت وائجر ون 61,000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور مسلسل ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ا
جیسے جیسے وائجر ون ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے ڈیٹا ٹرانسمشن سپیڈ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت ڈیٹا سپیڈ تقریبا 160بٹ فی سیکنڈ ہے۔
زمین گھوم رہی ہے اور ہمیں مسلسل وائجر ون سے ڈیٹا چاہے۔ اگر ایک ارتھ اسٹیشن ہو گا تووہ صرف آٹھ گھنٹے تک وائجر ون کے سگنلز رسیو کر پائے گا۔ اس مقصد کیلئے ناسا اپنا ڈیپ سپیس نیٹ ورک استعمال کرتا ہے جس میں تین ارتھ اسٹیشنز جو کہ امریکہ، سپین اور آسٹریلیامیں موجود ہیں ہر وقت کوئی ایک اسٹیشن مسلسل وائجر ون سے رابطے میں رہتا ہے۔
ان جہازوں کو کیلیفورنیا میں واقع ایک لیبارٹری سے کنٹرول کیا جاتا ہے
وائجر ون اپنے انٹینا کے ذریعے ہمیں ریڈیو سگنل بھیجتا ہے۔ یہ سگنل 12 واٹ سے لیکر 20واٹ تک کے ہوتے ہیں جو کہ کسی ریفریجریٹر میں لگے بلب جتنی توانائی کے ہوتے ہیں جب وائجر ون ان کو سینڈ کرتا ہے۔ سفر کے دوران سگنل کمزور ہوتے جاتے ہیں اور زمین تک آتے آتے یہ 0.000000000000000000722 واٹ رہ جاتے ہیں۔ اتنے کمزور سگنلز کو ریسو کرنے کیلے ہر ارتھ اسٹیشن پر70 میٹر کا ایک مین انٹینا اور کئی ایک 34میٹر کے انٹینا نصب کیئے گئے ہیں۔
وائجر 2 ایک مختلف راستے پر ہے اور یہ زمین سے 17 ارب سے 20 کلومیٹر دور ہوسکتا ہے
یہ خلائی جہاز اتنا دور ہے کہ انجینیئروں کو نظامِ شمسی کے کنارے سے سگنل حاصل کرنے کے لیے دو ریسیورز کو سیدھ میں لانا ہوتا ہے۔
ذرا اس پر غور کریں آپ شہر سے 40 کلومیٹر دور ہوتے ہیں تو موبائل فون سگنلز کے حصول میں دشواری ہوتی ہے جبکہ ناسا 44 سال پرانے اور 12 واٹ طاقت کے ایک ٹرانسمیٹر کا 24 ارب کلومیٹر دور سے بھیجا گیا سگنل بھی پکڑ سکتا ہے۔
اور یہ 1970 کی دہائی کی ٹیکنالوجی کا کمال ہے
وائجر منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدان ایڈ سٹون کہتے ہیں: 'انسان ہمیشہ نئی جگہوں کی تلاش میں رہے ہیں اور یہ انسان کی جانب سے مشینوں کے ذریعے نئی دنیاؤں کی تلاش کی کامیاب ترین کوشش ہے
سٹون خلائی سائنسدانوں کے درمیان ایک لیجنڈ کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سنہ 1972 میں جیٹ پروپلژن لیبارٹری میں وائجر کے ڈیزائن اور اس پر کام شروع ہونے سے اب تک اس مشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'وائجر تقریباً ان تمام چیزوں کی بنیاد ہے جو میں نے کی ہیں۔ اس مشن نے زمین سے باہر موجود دنیا کے بارے میں ہمارے نکتہ نظر کو وسیع کیا ہے۔ ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں ہمیں نظر آتا ہے کہ کائنات بہت زیادہ متنوع ہے۔'
وائجر مشنز کے پیچھے موجود ایک اور لیجنڈ وفات پا چکے سائنسدان کارل سیگن ہیں جنھوں نے دونوں خلائی جہازوں کے ساتھ دو 'گولڈن ریکارڈز' لگوائے۔ 1970 کی دہائی تک کارنیل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات اور ایسٹروفزکس کارل سیگن دنیا کے سب سے نامور سائنسدانوں میں سے ایک بن چکے تھے۔
سیارہ مریخ پر کامیابی سے اترنے والے پہلے مشن وائکنگ 1 سمیت مختلف ناسا مشنز پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے عوام کے لیے سائنسی کتابیں لکھیں اور ٹی وی اور ریڈیو پروگرامز میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔
گولڈن ریکارڈز کے ذریعے کارل سیگن اس سائنسی مشن کو ایک فن و ثقافت پر مبنی مشن میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تانبے سے بنی یہ ڈسکس ایک ارب سال تک سلامت رہ سکتی ہیں اور وینائل ریکارڈز جیسی ہیں، اور انہی کی طرح سوئی کے ذریعے چلتی ہیں، جسے کندہ کی گئی ریکارڈ کیسنگ میں رکھا گیا ہے۔ ان ریکارڈز کا مقصد کرہ ارض کے انسانوں کی جانب سے دور دراز کی اجنبی تہذیبوں کو پیغام پہنچانا ہے۔ ان ریکارڈز میں آوازیں، موسیقی اور یہاں تک کہ تصاویر بھی موجود ہیں۔
گولڈن ریکارڈ منصوبے کے ڈیزائن ڈائریکٹر اور آرٹسٹ جون لومبرگ کہتے ہیں: 'ہم یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ زمین کیسی ہے، یہاں پر رہنے والے لوگ کیسے ہیں، اور ان ریکارڈز کو کس نوع نے بنایا ہے۔ بنیادی قاعدہ یہ تھا کہ یہ پیغام ناسا یا امریکہ کی جانب سے نہیں بلکہ کرہ ارض کی جانب سے ہے اور صرف اسے بھیجنے والے ملک یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نمائندگی کرتا ہے۔'
سنہ 1979 میں اپنی لانچ کے 18 ماہ بعد وائجر 1 اور وائجر 2 نے سیارہ مشتری کا جائزہ لینا شروع کیا اور بے مثال تفصیل سے اس کے بادلوں کی تصاویر اتاریں۔ خلائی جہازوں پر موجود ٹی وی کیمروں سے آنے والی تصاویر کا معیار حیرت انگیز تھا۔
وائجر مشن کی امیجنگ ٹیم کے سربراہ گیری ہنٹ کہتے ہیں کہ 'جب بھی کوئی مشاہدہ کیا جاتا وہ کوئی نئی ہی چیز ہوتی۔' امپیریئل کالج لندن سے تعلق رکھنے والے ہنٹ اس مشن پر کام کرنے والے واحد سینیئر برطانوی سائنسدان ہیں۔ 'تاریخ ہی بدل گئی تھی۔'
سیاروں کے چاندوں سے کچھ سب سے زیادہ حیران کُن مشاہدات سامنے آئے۔ وائجر خلائی جہازوں کی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ چاند پتھروں کے ٹکڑوں سے کہیں زیادہ تھے۔ سٹون بتاتے ہیں کہ 'وائجر خلائی جہازوں سے پہلے تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ آتش فشاں صرف زمین پر پائے جاتے ہیں۔ مگر پھر ہم مشتری کے چاند آئیو کے قریب سے گزرے جو حجم میں ہمارے چاند جتنا ہی ہے اور اس پر زمین سے 10 گنا زیادہ آتش فشانی سرگرمی ہوتی ہے۔'
سٹون کہتے ہیں کہ 'وائجر نے ہمارا نظامِ شمسی کے بارے میں وہ نکتہ نظر بالکل پلٹ دیا جس میں زمین ہی سب سے زیادہ اہم سیارہ تھی۔ وائجر سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ واحد مائع سمندر صرف زمین پر ہے مگر پھر ہم نے مشتری کے چاند یوروپا کی دراڑ زدہ سطح کو دیکھا اور بعد ازاں یہ پایا گیا کہ اس کی سطح کے نیچے مائع پانی کا سمندر ہے۔'
سیارہ زحل کا چاند میماس بھی بڑا حیرت انگیز ہے
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ چاند کیسے ایک مکمل طور پر فعال جنگی سٹیشن کی طرح لگتا ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا مخروطی ٹکڑا بہت بڑے تصادم کی وجہ سے الگ ہوگیا تھا۔ 'یہ بہت بڑی ٹکر تھی۔ یہ شاید اس شدت سے تھوڑا ہی کم تھا جو اس چاند کو پوری طرح بکھیر کر رکھ دیتی، سائنسدانوں نے اس چاند کو ڈیتھ سٹار کا نام دیا
مگر زحل پر یہ واحد حیرت انگیز مشاہدہ نہیں تھا۔ نئے چھلے اور ایک اور چاند دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ وائجر خلائی جہاز نے زحل کے چاند ٹائٹن کا بھی جائزہ لیا۔ اس کی فضا گاڑھے پیٹرو کیمیکل سے بنی ہے اور یہاں پر میتھین کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اور چاند اینسیلاڈس کی قریبی تصاویر بھیجیں۔ برطانیہ کے حجم جتنی یہ ننھی منی سی برفیلی دنیا نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ روشنی منعکس کرنے والا جسم ہے۔ دونوں ہی چاندوں کا بعد میں کیسینی مشن نے جائزہ لیا اور اب سائنسدان اینسیلاڈس کو زندگی کی موجودگی کے لیے موزوں ترین جگہوں میں سے قرار دیتے ہیں۔
'ان تمام چاندوں میں سے ہر ایک منفرد ہے۔ وائجر نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں زحل کے چاندوں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہاں کیسے مشن بھیجنے چاہییں۔'
نومبر 1980 میں وائجر 1 سیارہ زحل کو پیچھے چھوڑتا ہوا نظامِ شمسی سے باہر جانے کے اپنے طویل سفر پر نکل پڑا۔ دو ماہ کے بعد وائجر 2 نے نظامِ شمسی کے سب سے باہری سیاروں کے لیے اپنی راہ پکڑی۔ سنہ 1986 میں یہ یورینس پہنچا اور اس نے گیس سے بنے اس عظیم الجثہ سیارے اور اس کے چھلّوں کی اولین تصاویر کھینچیں اور اس کے 10 نئے چاند دریافت کیے۔
جب یہ خلائی جہاز 1989 میں آخری سیارے نیپچون تک پہنچا تو ایک مرتبہ پھر ایک چاند سامنے تھا جس نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ وائجر 2 نے جس آخری جِرم کا مشاہدہ کیا وہ پورے مشن کے اہم ترین مشاہدوں میں سے تھا۔
وائجر ٹو جب نیپچون کے چاند کے پاس سے گذرا تو ہم نے نائٹروجن کے فوارے پھوٹتے ہوئے دیکھے۔ ایک کے بعد ایک ہم نے زمین پر ہونے والی چیزوں کو پورے نظامِ شمسی میں ہوتے ہوئے دیکھا۔'
وائجر کی طرز پر بعد میں کئی خلائی جہاز بنائے گئے۔ کیسینی مشن زحل تک بھیجا گیا جبکہ گیلیلو اور جونو خلائی جہازوں نے مشتری کا مزید گہرائی سے جائزہ لیا مگر ان دونوں سیاروں کی وائجر 2 کی لی گئی بہترین تصاویر جیسی تصاویر کسی اور مشن سے اب تک وصول نہیں ہو سکیں
انسانیت کی تاریخ میں شاید ہی کسی مہم نے ان دونوں وائجر خلائی جہازوں جتنی سائنسی کامیابیاں حاصل کی ہوں مگر ان سے ہمیں بے پناہ ٹیکنالوجیکل ورثہ بھی حاصل ہوا ہے۔
'یہ پہلا کمپیوٹر کنٹرولڈ خلائی جہاز ہے۔ یہ خود ہی اڑتا ہے، خود ہی کام کرتا ہے، خود ہی خود کو چیک کرتا ہے اور خود سے ہی بیک اپ نظام پر منتقل ہو سکتا ہے۔'
وائجر مشن میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو ہم روز مرّہ کی زندگیوں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ 'چونکہ دور دراز خلا سے آنے والے سگنل نہایت کمزور ہوتے ہیں، اس لیے سائنسدانوں کو کوڈنگ سسٹم بنانے پڑے۔ سیل فون اور سی ڈی پلیئرز بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں مگر یہ کوڈنگ چیزوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔'
اسی طرح سمارٹ فونز کے اندر موجود امیج پراسیسنگ کی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی درحقیقت وائجر کے انجینیئرز کی تیار کردہ ٹیکنالوجیوں پر رکھی گئی۔
مگر وائجر خلائی مشن کے لیے سب سے عظیم ترین لمحہ 14 فروری 1999 کو آیا۔ یہ وہ دن تھا جب وائجر 2 نے اپنے کیمروں کا رُخ زمین کی طرف کیا تاکہ پورے نظامِ شمسی کی تصویر لی جا سکے۔ اس وقت وائجر ون زمین سے تقریباً 6 ارب کلو میٹر دور تھا۔, اس پوری تصویر میں زمین صرف ایک پکسل پر مبنی پھیکے سے نقطے کی مانند نظر آتی ہے جس سے ہمیں کائنات میں اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ آخری تصویر تھی اس کے بعد فیول بچانے کی خاطر اس کے کیمرے اور باقی سائینسی آلات کو بند کر دیا گیا۔۔ اس وقت اس کے گیارہ میں چار سائینسی آلات چل رہے ہیں
اس مشن کی انتظامیہ کی ایک اہم رکن ایمیلی لکڑاوالا کہتی ہیں کہ 'یہ (زمین) خلا میں تیرنے والی ایک نہایت چھوٹی سی چیز ہے اور زمین ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ تمام زندگی موجود ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ یہ خوف زدہ کر دینے والا خیال ہے اگر آپ وائجر کی لی گئی اس تصویر میں اسے سورج کی شعاع کے درمیان دیکھیں۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی لیزر کی شعاع ہے جس میں زمین نصب ہے۔'
(یہ تصویر بھی نیچے موجود ہے)
وہ مزید کہتی ہیں: 'کوئی ایک واقعہ بھی کائنات کی اُس پوری زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ یہ ایک قیمتی تصویر ہے جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کائنات میں ہمارا مقام کس قدر نازک اور چھوٹا ہے۔'
سنہ 2013 میں وائجر 1 نے وہ سرحد عبور کر لی جو سورج کے پیدا کردہ مقناطیسی میدان اور ستاروں کے درمیان موجود خلا کے درمیان ہے۔ سٹون بتاتے ہیں کہ 'سورج یہ بڑا سا بلبلہ پیدا کرتا ہے جو سیاروں کو گھیرے رکھتا ہے۔ یہ کوسمک شعاعوں سے ہمیں بچاتا ہے۔
وائجر 1 اب خلا میں چلتا ہی جا رہا ہے اور آنے والے چند سالوں میں وائجر 2 بھی نظامِ شمسی سے باہر نکل جائے گا۔ چونکہ یہ وائجر 1 سے مختلف زاویے سے نظامِ شمسی سے باہر نکلے گا، اس لیے سائنسدانوں کو اس کے ذریعے شمسی بلبلے کی ساخت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی
مگر وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ خلائی جہاز جوہری بیٹریوں سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ پلوٹونیم کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی گرمی سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ہر سال چار واٹ کم گرمی پیدا ہوتی ہے۔
وائجر کی پروگرام مینیجر سوزی ڈوڈ کہتی ہیں کہ 'مقصد یہ ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک اڑتے رہیں۔ آپ ان کا تصور ان دو جڑواں بچوں کی طرح کریں جن میں سے ایک کی 40 سال کے عرصے میں قوتِ سماعت ختم ہو چکی ہے تو دوسرے کو کچھ خاص نظر نہیں آتا، اس لیے ہمیں بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔'
وہ کہتی ہیں: 'ہم غیر ضروری سسٹمز بند کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اب صرف وہ آلے چلائے رکھتے ہیں جن سے خلائی جہازوں کے محلِ وقوع کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ ہم ان کے کیمرے ہمیشہ کے لیے بند کر چکے ہیں کیونکہ وہاں دیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے، صرف نہایت اندھیری خلا ہے۔'
کچھ توانائی سے ہیٹرز چلائے جاتے ہیں تاکہ خلائی جہاز کے آلے منجمد نہ ہوجائیں۔
ڈوڈ جانتی ہیں کہ شاید اگلے 5 یا 6 سالوں میں کسی دن وائجر 1 اور 2 کو بند کرنا پڑے گا۔ وہ کہتی ہیں 'مجھے لگتا ہے کہ یہ ناسا اور انسانیت کے لیے بہت افسوسناک دن ہوگا۔ یہ ایسا ہوگا جیسے بھرپور زندگی جینے والے کسی دادا دادی یا کسی قریبی رشتے دار کو کھو دیا جائے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب ہم وائجر سے سگنل پکڑنے کی کوشش کریں گے مگر ہمیں سگنل نہیں ملے گا۔'
مگر ایک طرح سے دیکھیں تو وائجر مشن شاید ہمیشہ چلتا رہے اور شاید یہ انسانی تہذیب سے بھی زیادہ عرصے تک قائم رہے۔
ڈوڈ کہتی ہیں کہ 'مجھے یہ سوچنا پسند ہے کہ مستقبل میں کبھی کوئی چیز یا کوئی مخلوق انھیں تلاش کرے گی، گولڈن ریکارڈ چلائے گی اور ایسی تہذیب کو دیکھے گی جو اس وقت تک ایک قدیم تہذیب بن چکی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ جب تک گولڈن ریکارڈ کسی کے ہاتھ لگے تب تک زمین ختم بھی ہو چکی ہو۔'
سٹون کہتے ہیں کہ 'وائجر خلائی جہاز ملکی وے کہکشاں کے لیے ہمارے خاموش سفیر بنیں گے۔ یہ اربوں سالوں تک کہکشاں کے اندر گردش کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.