Urdu Digital Knowledge,Free Urdu Knowledge Resources,Complete Urdu Digital Education, Urdu mein digital knowledge kaise hasil karen,Free Urdu online courses aur ebooks,Urdu digital library books pdf,Urdu knowledge website Pakistan,Urdu language learning online free,Urdu literature aur shayari digital collection,Online Urdu education platform,Urdu general knowledge questions answers,Urdu mein science, Latest Knowledge, Knowledge, Multi Knowledge, NASA Space Mission, Online Earning Tips and Tricks

Subscribe Us

Breaking

Advertisement

Translate

Saturday, March 12, 2022

کائناتی شور cosmic Noise



کائنات، جتنی یہ وسیع ہے اس سے کہیں زیادہ یہ پراسرار ہے،،

کائنات میں تاریکی، ویرانی، ٹھنڈک اور خاموشی بہت بہت زیادہ ہے

اتنے وسیع ترین پیمانے پر پھیلا یہ کائناتی ڈھانچہ جس قدر پیچیدہ ہے اتنا ہی منظم اور متوازن بھی ہے، اس کے انتظام میں ذرہ سا بھی نقص نہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوتا اگر اس کائنات کے نظام میں یہ نقص پایا جاتا کہ آواز بلا واسطہ (میڈیم) سفر کرتی؟

کائنات میں جس قدر ہنگامہ ہائے قیامت خیز برپا ہیں یہ یوں خاموشی سے برپا نہیں ہوتے،

خلا میں خوفناک شور مچا رہتا

کائناتی اجسام کی حرکت،ستاروں میں اٹھنے والے طوفان، ستاروں کا پھیلنا،پھولنا، پھٹنا،سکڑنا، ایک دوسرے سے ٹکرانا

کائنات میں قیامت سے پہلے قیامت کا شور برپا کیے ہوتا

مگر یہ کائنات اور اس کے باسی بھی شور مچاتے ہیں جسے کائناتی شور cosmic noise کہتے ہیں اور یہ الگ بات ہے کہ یہ شور اُن کے گلے میں ہی اٹک جاتا ہے

کیونکہ آواز بلا واسطہ سفر نہیں کر سکتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آواز بلا واسطہ سفر کر سکتی تو زمین پر کیا اثرات ہوتے؟

باقی ستارے نظامِ شمسی سے دور ہیں جیسے اُن کے دیگر اثرات زمین پر مرتب نہیں ہوتے ویسے ہی ان کے شور کا بھی اثر انداز ہونے کا امکان نہیں تھا مگر نظامِ شمسی کے سیاروں اور سورج کے طوفانوں کا شور بھی سکون غارت کرنے کے لئے کافی ہوتا اور جو آوازیں زمین پیدا کرتی ہے وُہ بھی ہمیں بے سکون کرنے کے لئے کچھ کم نہیں ۔۔۔

صد شکر کہ آواز کو سفر کرنے کے لئے ایک واسطے (میڈیم) کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ میڈیم خلا میں دستیاب نہیں۔۔۔۔

ورنہ خود سوچیں زمین جو کائنات میں محض ایک ایٹم جتنی ہے اور اس پر جب کوئی طوفان آتا ہے، بجلیاں گرتی گرجتی ہیں، تو کس قدر شور مچتا ہے،،،

زمین پر جس قدر بھی بڑے قدرتی یا غیر قدرتی دھماکے ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں سبھی کائنات میں ہونے والے دھماکوں کے آگے ایسے ہیں جیسے کسی ایٹم کے اندر موجود ذرات کی ہلچل۔۔۔۔۔

زمین پر ہونے والے دھماکے ہماری سماعتوں کو سن یا زائل کرنے کے لیے کافی ہیں،

سوچیں سپر نووا دھماکے، ستاروں و سیاروں کی محوری و مداروی گردشیں

کہکشاؤں کا تصادم، ستاروں, سیاروں کا ٹکراؤ کیا ایسے ہی خاموشی سے ہوپاتا اگر آواز بلا واسطہ سفر کر سکتی؟

۔۔۔۔۔   

 آواز کو مرتعش ہونے یا پھیلنے کے لیے کسی مادی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے

ٹھوس مائع اور گیس کے مالیکیول اواز کی لہروں کو پھیلنے، مرتعش ہونے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں

آواز سب سے زیادہ تیزی سے سفر ٹھوس اجسام میں کرتی ہے کیونکہ ان کے ایٹموں کے بیچ کا فاصلہ مائع اور گیس کی نسبت کم ہوتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

خلا میں زمینی فضا جیسا کثیف مادی ماحول نہیں ہوتا۔۔۔۔

اور خلا بالکل بھی خالی نہیں ہوتا اس میں مادی ذرات ہوتے ہیں مگر زمین کی فضا کی نسبت بہت ہی کم مقدار میں

اس لیے آواز بھی خلا میں سفر تو کرتی ہے مگر بہت ہی نا محسوس طریقے سے اور معمولی مقدار میں جسے انسانی کان نہیں سن سکتے۔۔۔۔

اسلئے خلا نظر آنے میں خالی اور سننے میں خاموش ہی لگتا ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین پر غیر معمولی خاموشی طوفانوں کا پیش خیمہ سمجھی جاتی ہے

مگر اس عجوبہ گر کائنات کی خاموشی میں لاکھوں کروڑوں طوفان پلتے، مچلتے اور چلتے رہتے ہیں،

اس خاموشی میں ایسے ایسے دھماکوں کا شور دبا ہوا ہے جسے کبھی انسانی کانوں نے سنا ہے اور نہ اُن میں انہیں سننے کی سکت ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ معاملہ حیرتوں کی معراج نہیں ہے تو کیا ہے، کہ اتنی حشر سامانیوں اور ہنگامہ خیزیوں کے باوجود اور برعکس کائنات میں دل دہلا دینے والی خاموشی کا راج ہے

خاموشی بھی ایسی کہ انسان کو منٹوں میں پاگل کر دے

ایسی ہی خاموشی کا پرتو (عکس) مائکرو سافٹ کمپنی نے دو کمروں کی صورت میں ماہرین سے تیار کرایا ہے

جو سیارہ زمین پر موجود خاموش ترین مقام کہلاتے ہیں

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ مضبوط ترین اعصاب کا مالک انسان بھی اس میں 45منٹ سے زیادہ نہیں گزار سکتا۔۔۔۔

اور کائنات میں تو ایسے خاموش مقامات سپر وائڈز، بوٹس وائڈ کی صورت میں لاکھوں کروڑوں نوری سالوں پر پھیلے ہوئے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج یا دیگر ستارے تو اپنا آپ جلا رہے ہوتے ہیں اُن کا شور مچانا تو حق بھی ہے، مگر اپنا جی نہ جلانے والے سیارے بھی بہت خوفناک آوازیں نکالتے ہیں

مگر ان ستاروں اور سیاروں کی یہ آوازیں اور چیخیں اُن کے اندر ہی گھٹ کہ رہ جاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگرماہرین نے سورج اور نظامِ شمسی کے سیاروں کے حلق میں اٹکی ان آوازوں کو محسوس کر کے اور ان کا سراغ لگا کر اُنہیں ریکارڈ بھی کیا ہے۔۔۔۔۔

جنہیں سن کر انسان مبہوت رہ جاتا ہے، انجانے خوف کو محسوس کرتا ہے۔۔۔۔۔

زمین کی گڑگڑاہٹ بھری آوازیں، سورج کی تیز گھنٹیاں بجاتی آوازیں

دیگر سیارگان میں کسی کی آواز شیر کی دہاڑ جیسی ہے، کسی کی آواز ایسی ہے جیسے تیز ہوا کروڑوں درختوں کے بیچ سے گزر رہی ہو

اور کسی سیارے کی آواز ایسی ہے جیسے لاکھوں بد روحیں مل کر بین کر رہی ہوں ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناسا نے نظامِ شمسی کے سیاروں اور سورج کی آوازیں ریکارڈ کی ہیں جنہیں آپ کبھی

یو ٹیوب پر سرچ کر کے اور سن کر اپنی کیفیات و جذبات سے مجھے آگاہ کیجئے گا۔۔۔۔

کائنات کا زیادہ تر حصہ ہم سے بہت دور ہے اور ذاتی طور پر وہاں جانا ممکن نہیں

دور ہونے کے باوجود ان کو دریافت کرنے اور دیکھنے کا موقع ہمیں دوربین اور سائنسدانوں کی مہارت کی وجہ سے ملتا ہے

دور بینین دور دراز علاقوں سے آتی مختلف رنگ کی روشنیوں کا پتہ لگاتی ہیں اور ماہرین اُن روشنیوں کو تصاویر میں تبدیل کرتے ہیں

ناسا کو اس ڈیٹا کا انسان کے دیگر حواس( جیسے سماعت) کے ذریعے مشاہدہ کرنے کا خیال آیا

سونیفکیشن وُہ عمل ہے جس کے ذریعے حاصل شدہ ڈیٹا کو آواز کی لہروں میں تبدیل کیا جاتا ہے

ناسا نے اپنے اس پروجیکٹ تحت

ملکی وے کے سینٹر، سپرنووا کیسوپیا اے،

پلر آف کری ایشن ایم 16،بلٹ کلسٹر، کریب نیبولااور سپرنووا 1987 اے کے ڈیٹا کا ترجمہ آوازوں کو صورت میں کیا ہے جِسے آپ ناسا کی ویب سائٹ پر سن سکتے ہیں

اس پروجیکٹ کی قیادت چندرا ایکسرے سینٹر CXC نے کی جو کہ ناساز یونیورس آف لرننگ پروگرام UoL کا حصہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیئرک ریسرچ کے سکاٹ میکانٹوش کا کہنا ہے اگر ہم سورج کو سن سکتے تو ہمیں پتہ چلتا کہ سورج بہت شور مچاتا ہے

 میکانٹوش اور دیگر ماہرین نے سورج کی روشنی اور تابکار شعاؤں کو آواز کی لہروں میں کنورٹ کیا ہے

روشنی اور تابکار شعائیں سورج کے اندر ہنگامہ مچاتی گیس کی دیوہیکل لہروں کا عکس ہوتی ہیں

آپ نیچے موجود تصویر میں سورج سے ان گیسی لہروں کا اخراج دیکھ سکتے ہیں

سائنس دانوں نے سولر اینڈ ہیلیوسفیئرک آبزرویٹری (SOHO) میں نصب ایک انسٹرومنٹ ڈوپلرگراف کا استعمال کرتے ہوئے روشنی کی لہروں کو صوتی لہروں میں کنورٹ کرنے کے لئے ایک کمپیوٹر ماڈل کا استعمال کیا اور فریکوئنسی کو اتنا تیز کیا اور اس حد پر لائے جسے انسان سن سکیں

 میکانٹوش کے مطابق سورج کی آواز میں مختلف فریکوئنسیز ہوتی ہے جو آپس میں مل جاتی ہیں

آخر کار ماہرین نے سورج کی آواز بھی ریکارڈ کر لی

سورج کی آواز کسی ملٹی فریکوئنسیز سانگ کی سی ہے جیسے کسی گرجا گھر میں گھنٹیاں بجتی ہیں

گرجا گھر کی گھنٹیوں میں بعض تیز تو بعض دھیمی ہوتی ہیں، ان تیز اور دھیمی گھنٹیوں کے ایک ساتھ بجنے سے جو ماحول بنتا ہے اگر آپ کو موقع ملے سننے کا تو سورج کی آوازیں کچھ ایسی ہی گرجا گھر کی تیز اور دھیمی گھنٹیوں کی آوازوں کی طرح ہیں.

No comments:

Post a Comment

Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.

Advertisement