(کرامات حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رحمت اللہ علیہ )
خانقاہ میں ایک باپردہ خاتون اپنے بچے کی لاش چادر میں لپٹائے سینے سے چمٹائے زار و قطار رو رہی تھی اتنے میں خانقاہ کے اندر سے ایک بچہ دوڑتا ہوا آتا ہے اور ہمدردانہ لہجے میں اس خاتوں سے رونے کا سبب دریافت کرتا ہے وہ روتے ہوئے کہتی ہے بیٹا میرا شوہر اپنے لخت جگر کے دیدار کی حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو گیا ہے یہ بچہ اس وقت پیٹ میں تھا اور اب یہی اپنے باپ کی نشانی اور میری زندگانی کا سرمایہ تھا یہ بیمار ہو گیا میں اسے اس خانقاہ میں دم کروانے لا رہی تھی کہ راستے میں اس نے دم توڑ دیا ہے میں پھر بھی بڑی امید لے کر یہاں حاضر ہو گئی کہ اس خانقاہ والے بزرگ کی ولایت کی ہر طرف دھوم ہے اور ان کی نگاہ کرم سے اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر وہ بزرگ مجھے صبر کی تلقین کرکے اندر تشریف لے جا چکے ہیں یہ کہہ کر وہ خاتون پھر رونے لگی بچے کا دل پگھل گیا اور اس کی رحمت بھری زبان پر یہ الفاظ کھیلنے لگے محترمہ آپ کا بچہ مرا ہوا نہیں بلکہ زندہ ہے دیکھو تو سہی وہ حرکت کر رہا ہے دکھیاری ماں نے بے تابی کے ساتھ اپنے بچے کی لاش پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو وہ سچ مچ زندہ تھا اور ہاتھ پیر ہلا کر کھیل رہا تھا اتنے میں خانقاہ والے بزرگ اندر سے واپش تشریف لائے بچے کو زندہ دیکھ کر ساری بات سمجھ گئے اور لاٹھی اٹھا کر یہ کہتے ہوئے بچے کی طرف لپکے کہ تونے ابھی سے تقدیر خداوندی عزوجل کے سربستہ راز کھولنے شروع کر دئیے ہیں بچہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور وہ بزرگ اس بچے کے پیچھے دوڑنے لگے بچہ یکایک قبرستان کی طرف مڑا اور بلند آواز سے پکارنے لگا اے قبر والو مجھے بچاؤ تیزی سے لپکتے ہوئے بزرگ اچانک ٹھٹھک کر رک گئے کیونکہ قبرستان سے تین سو (300) مردے اٹھ کر اس بچے کی ڈھال بن چکے تھے اور وہ بچہ دور کھڑا اپنا چاند سا چہرہ چمکاتا مسکرا رہا تھا اس بزرگ نے بڑی حسرت کے ساتھ بچے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بیٹا ہم تیرے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے اس لئے تیری مرضی کے آگے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں آپ جانتے ہیں وہ بچہ کون تھا اس بچے کا نام عبدالقادر تھا اور آگے چلکر کل پیران اے پیر حضرت غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام کے لقب سے مشہور ہوئے اور وہ بزرگ ان کے ناناجان حضرت سیدنا عبداللہ صومعی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے..❣️❣️
(الحقائق فی الحدائق)
No comments:
Post a Comment
Have a any doubt let me know. And don't enter any spam link in the comment box.